پاکستان کا منہ توڑ جواب؛ افغانستان میں 10 مقامات پر کارروائی، دہشت گردوں کا انفراسٹرکچر تباہ

پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور سرحد پار سے ہونے والی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے افغانستان کے اندر 10 مختلف مقامات پر درست نشانے (پریسیژن اسٹرائیکس) کے ذریعے کارروائیاں کی ہیں، جن میں دہشت گردوں کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

کارروائی کا پس منظر اور فضائی حدود کی خلاف ورزی

حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، حال ہی میں افغان سرزمین سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کی گھسنے کی کوشش کو پاکستانی دفاعی نظام نے ناکام بناتے ہوئے متعدد ڈرونز مار گرائے تھے۔ اس بابت وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے تصدیق کی کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے بین الاقوامی اور آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے ان 10 مقامات کو نشانہ بنایا جو ان ڈرونز کی لانچنگ اور اسٹوریج کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

پاکستان کا واضح مؤقف اور وارننگ

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں نہایت نپی تلی اور مخصوص عسکری اہداف تک محدود تھیں تاکہ ملک دشمن عناصر کو واضح پیغام دیا جا سکے۔ پاکستان نے افغانستان کی عبوری حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی یا دشمنانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریاست اپنی ملکی خودمختاری، سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا مکمل عزم رکھتی ہے۔

پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور سرحد پار سے ہونے والی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے افغانستان کے اندر 10 مختلف مقامات پر درست نشانے (پریسیژن اسٹرائیکس) کے ذریعے کارروائیاں کی ہیں، جن میں دہشت گردوں کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

کارروائی کا پس منظر اور فضائی حدود کی خلاف ورزی

حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، حال ہی میں افغان سرزمین سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کی گھسنے کی کوشش کو پاکستانی دفاعی نظام نے ناکام بناتے ہوئے متعدد ڈرونز مار گرائے تھے۔ اس بابت وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے تصدیق کی کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے بین الاقوامی اور آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے ان 10 مقامات کو نشانہ بنایا جو ان ڈرونز کی لانچنگ اور اسٹوریج کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

پاکستان کا واضح مؤقف اور وارننگ

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں نہایت نپی تلی اور مخصوص عسکری اہداف تک محدود تھیں تاکہ ملک دشمن عناصر کو واضح پیغام دیا جا سکے۔ پاکستان نے افغانستان کی عبوری حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی یا دشمنانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریاست اپنی ملکی خودمختاری، سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا مکمل عزم رکھتی ہے۔

Table of Contents

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top